26 اگست 2026 - 16:31
کیا اسرائیل ترکی کو نیا دشمن بنانے کی راہ پر گامزن ہے؟

اسرائیل اور ترکی کے درمیان حالیہ ہفتوں میں بڑھتی کشیدگی اب محض سیاسی اختلافات تک محدود نہیں رہی بلکہ شام میں فوجی محاذ آرائی تک جا پہنچی ہے۔ اسرائیلی حلقوں میں ترکی کو ’’نئے ایران‘‘ کے طور پر پیش کیے جانے سے یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ آیا تل ابیب انقرہ کو ایک نئے تزویراتی خطرے کے طور پر متعارف کرانے کی کوشش کر رہا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، حالیہ ہفتوں میں ترکی اسرائیل کے سیاسی اور سکیورٹی بیانیے میں ایک نئے انداز سے نمایاں ہوا ہے۔ اسرائیلی حلقوں میں بعض افراد ترکی کو ’’نیا ایران‘‘ قرار دے رہے ہیں۔ شام میں ترکی کی بڑھتی ہوئی موجودگی، اسلام پسند گروہوں سے انقرہ کے روابط، خصوصاً ڈرون ٹیکنالوجی میں اس کی بڑھتی ہوئی فوجی صلاحیت اور بحیرہ روم و مشرقی افریقا میں اس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے اسرائیل میں تشویش پیدا کردی ہے۔

یہ کشیدگی 18 اگست کو شمال مغربی شام کے ابو الظهور فوجی ہوائی اڈے پر اسرائیلی فضائی حملے کے بعد مزید بڑھ گئی۔ اسرائیل نے آٹھ فضائی حملوں کے ذریعے کارروائی کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کا مقصد ترکی کو وہاں فوجی موجودگی قائم کرنے سے روکنا تھا، تاہم ترکی نے اس اڈے پر اپنے فوجیوں کی موجودگی کی تردید کی۔

دوسری جانب امریکا کی بعض حالیہ پالیسیوں سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اسرائیل اور ترکی کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر تشویش میں مبتلا ہے۔

شام اور عراق کے لیے امریکی خصوصی ایلچی ٹام بارک نے ابو الظهور پر حملے کے لیے اسرائیل کی جانب سے پیش کی گئی انٹیلی جنس معلومات کو غلط قرار دیتے ہوئے امکان ظاہر کیا کہ یہ کارروائی ترکی کو اشتعال دلانے کے مقصد سے کی گئی ہو۔

ادھر بنیامین نیتن یاہو اور اسرائیلی حکام نے اپنے بیانات میں سختی پیدا کرتے ہوئے شام میں ترکی کی فوجی موجودگی کو اسرائیل کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ تاہم نیتن یاہو کے بعض سیاسی مخالفین اور اسرائیلی سکیورٹی حلقوں نے ترکی کو باقاعدہ دشمن قرار دینے کے خلاف خبردار کرتے ہوئے اسے خطرناک اور غیر ضروری اقدام قرار دیا ہے۔

اس کشیدگی کا ایک اہم پہلو اسرائیل کی اندرونی سیاسی صورتحال بھی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کنیست کے انتخابات قریب آنے اور لیکود کی مقبولیت میں کمی کے باعث نیتن یاہو کو ایک نئے بیرونی خطرے کو نمایاں کرکے سیاسی حمایت حاصل کرنے کی ترغیب مل سکتی ہے۔

ترک حکام نے بھی انقرہ کو اسرائیل کے نئے خطرے کے طور پر پیش کرنے کی نیتن یاہو حکومت کی کوششوں کو انتخابی سیاست اور اندرونِ ملک سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ تاہم دوسری جانب دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست تصادم روکنے کے لیے خفیہ رابطوں کے حوالے سے بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تل ابیب بھی ترکی کے ساتھ مسابقت کو کھلی دشمنی میں تبدیل کرنے کے ممکنہ نتائج سے آگاہ ہے۔

ترکی خطے میں اسرائیل کے دیگر کئی حریفوں کے برعکس نیٹو کا رکن ہے اور امریکا کے لیے اس کی تزویراتی اہمیت بھی غیر معمولی ہے۔ اس کے علاوہ انقرہ کے روس اور ایران سمیت مختلف عالمی طاقتوں کے ساتھ وسیع تعلقات ہیں۔ ایسے میں اسرائیل اور ترکی کے درمیان براہِ راست محاذ آرائی پورے خطے پر دور رس اثرات مرتب کرسکتی ہے۔

مجموعی طور پر اسرائیل اس وقت دو متضاد راستوں کے درمیان دکھائی دیتا ہے۔ ایک جانب ترکی کے خطرے کو سیاسی اور سکیورٹی مقاصد کے لیے نمایاں کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ کشیدگی میں اضافہ ایک علاقائی حریف کو حقیقی دشمن میں تبدیل کرسکتا ہے۔

اب بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا تل ابیب میں سکیورٹی اور حقیقت پسندانہ مفادات انتخابی مصلحتوں پر غالب آئیں گے یا ’’دشمن سازی‘‘ کا یہ عمل خطے کو ایک نئی محاذ آرائی کی طرف لے جائے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha